ساحل آن لائن - سچائی کا آیئنہ

Header
collapse
...
Home / ساحلی خبریں / لالو خاندان پر ایک اور گھوٹالے کا الزام ، دہلی میں کروڑوں کی جائیداد کا خلاصہ ہوا

لالو خاندان پر ایک اور گھوٹالے کا الزام ، دہلی میں کروڑوں کی جائیداد کا خلاصہ ہوا

Wed, 19 Apr 2017 10:39:20    S.O. News Service

نئی دہلی، 18؍اپریل (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )لالو یادو کا خاندان ایک کے بعد ایک نئے الزامات میں گھرتا جا رہا ہے۔ذرائع ابلاغ کو خصوصی معلومات ملی ہے کہ لالو یادو کے بیٹے تیج پرتاپ، تیجسوی اور چندہ کے نام دہلی کے پاش علاقے نیو فرینڈ س کالونی میں ایک گھر خریدا گیا ہے، جس کی قیمت 5 کروڑ روپے بتائی جا رہی ہے۔2008میں اے بی ایکسپورٹ نام کی ایک کمپنی نے پانچ کروڑ روپے میں اس گھر کو خریدا تھا ، بعد میں 2010میں اسے لالو کے بچوں کے نام پر ٹرانسفر کر دیاگیا ۔ٹیکس ریٹرن فائل میں اے بی ایکسپورٹ نے اپنی آمدنی زیرو دکھائی ہے۔کمپنی نے اس کے لیے پانچ الگ الگ زیورات کمپنیوں سے پیسہ لیا۔ایسے میں بڑا سوال یہ ہے کہ کیا لالو کے گھر کے لیے زیورات کمپنیوں نے پیسے دیئے تھے ؟ خاص بات یہ ہے کہ تیجسوی کے انتخابی حلف نامہ میں اس گھر کا کوئی ذکر نہیں ہے۔اس معاملے پرمیڈیا سے بات چیت میں لالو یادو نے صفائی دی ہے۔انہوں نے کہا کہ اس میں کچھ غلط نہیں ہے، تمام دستاویزات عوامی ہیں،ہمارے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں ہے۔بی جے پی لیڈر سشیل مودی نے لالو یادو کے بڑے بیٹے بہار کے وزیر صحت تیج پرتاپ یادو کو لے کر انکشاف کیا تھا۔مودی کے مطابق، 2010میں لارا ڈسٹربیوٹرس پرائیویٹ لمیٹڈ کے نام سے 45ڈیسمل زمین، 53.34لاکھ روپے میں خریدی گئی اور اس زمین پر ایک موٹر سائیکل کمپنی کا شوروم بھی شروع کیا گیا، اس شوروم کو شروع کرنے کے لیے 2.29کروڑ روپے کا لون لیا گیا ، تب تیج پرتاپ اس کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر تھے، حالانکہ 2015میں اسمبلی انتخابات کے نتائج آنے کے بعد تیج پرتاپ یادو نے اس کمپنی کے منیجنگ ڈائریکٹر کے عہدے سے استعفی دے دیا۔ لیکن مودی کا الزام ہے کہ الیکشن کمیشن کو دئیے گئے حلف نامہ میں تیج پرتاپ یادو نے نہ اپنے شیئر کی معلومات دی اور نہ ہی لون کا کوئی ذکر کیا۔حالانکہ تیج پرتاپ کے قریبی لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ تمام معلومات تیج پرتاپ کے حلف نامے میں موجود ہیں ، لیکن وہ کس کس کمپنی میں ڈائریکٹر ہیں یا ان کا شیئر ہے، وہ سلسلہ وار طریقے سے نہ دے کر کل شیئر اور اس کی قیمت کا کل جمع دیا گیا ہے۔سشیل مودی نے مبینہ طور پر دستاویزی ثبوت جاری کرکے ایک نئی کمپنی کو لے کر بھی الزام لگایا تھا، جس پر لالو یادو کے خاندان کا قبضہ ہوا۔کمپنی کے مالکانہ حق کتیال خاندان کی آئس برگ انڈسٹری پرائیویٹ لمیٹڈ کے پاس تھا۔2006میں اے کے انفوسسٹم پرائیویٹ لمیٹڈ نام کی کمپنی بنائی گئی ، جس میں کتیال خاندان کے رکن ڈائریکٹر تھے، لیکن بعد میں ان کی جگہ پر اب بہار حکومت میں وزیر تیج پرتاپ یادو اور اب نائب وزیر اعلی تیجسوی یادو اور دوسروں کو ڈائریکٹر بنا دیا گیا۔امت کتیال نے اپنے سارے شیئر لالو پرساد یادو کی بیوی رابڑی دیوی اور بیٹے تیجسوی یادو کے نام کر دئیے ۔گزشتہ اسمبلی انتخابات کے نتائج آنے کے بعد لالو یادو کے بیٹے کمپنی کے ڈائریکٹر کے عہدے سے ہٹ گئے اور اب ان کی بیٹی چندہ اور راگنی یادو اس کی ڈائریکٹر ہیں ۔بی جے پی لیڈر سشیل مودی کا الزام ہے کہ اس سے صاف ہے یہ مکمل طور پر بدعنوانی کا معاملہ ہے۔


Share: